اردو - سورہ قلم - قرآن کریم

قرآن کریم » اردو » سورہ قلم

اختر القاريء


اردو

سورہ قلم - آیات کی تعداد 52
ن ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ ( 1 ) قلم - الآية 1
نٓ۔ قلم کی اور جو (اہل قلم) لکھتے ہیں اس کی قسم
مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ ( 2 ) قلم - الآية 2
کہ (اے محمدﷺ) تم اپنے پروردگار کے فضل سے دیوانے نہیں ہو
وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ ( 3 ) قلم - الآية 3
اور تمہارے لئے بے انتہا اجر ہے
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ ( 4 ) قلم - الآية 4
اور اخلاق تمہارے بہت (عالی) ہیں
فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ ( 5 ) قلم - الآية 5
سو عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ (کافر) بھی دیکھ لیں گے
بِأَييِّكُمُ الْمَفْتُونُ ( 6 ) قلم - الآية 6
کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ( 7 ) قلم - الآية 7
تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو سیدھے راستے پر چل رہے ہیں
فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ ( 8 ) قلم - الآية 8
تو تم جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا
وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ ( 9 ) قلم - الآية 9
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم نرمی اختیار کرو تو یہ بھی نرم ہوجائیں
وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ( 10 ) قلم - الآية 10
اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے
هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ( 11 ) قلم - الآية 11
طعن آمیز اشارتیں کرنے والا چغلیاں لئے پھرنے والا
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ( 12 ) قلم - الآية 12
مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھا ہوا بدکار
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ( 13 ) قلم - الآية 13
سخت خو اور اس کے علاوہ بدذات ہے
أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ ( 14 ) قلم - الآية 14
اس سبب سے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے
إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ( 15 ) قلم - الآية 15
جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں
سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ ( 16 ) قلم - الآية 16
ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے
إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ ( 17 ) قلم - الآية 17
ہم نے ان لوگوں کی اسی طرح آزمائش کی ہے جس طرح باغ والوں کی آزمائش کی تھی۔ جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ لیں گے
وَلَا يَسْتَثْنُونَ ( 18 ) قلم - الآية 18
اور انشاء الله نہ کہا
فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ ( 19 ) قلم - الآية 19
سو وہ ابھی سو ہی رہے تھے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے (راتوں رات) اس پر ایک آفت پھر گئی
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ ( 20 ) قلم - الآية 20
تو وہ ایسا ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی
فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ ( 21 ) قلم - الآية 21
جب صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے
أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَارِمِينَ ( 22 ) قلم - الآية 22
اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو
فَانطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ ( 23 ) قلم - الآية 23
تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے
أَن لَّا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُم مِّسْكِينٌ ( 24 ) قلم - الآية 24
آج یہاں تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے
وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْدٍ قَادِرِينَ ( 25 ) قلم - الآية 25
اور کوشش کے ساتھ سویرے ہی جا پہنچے (گویا کھیتی پر) قادر ہیں
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ ( 26 ) قلم - الآية 26
جب باغ کو دیکھا تو (ویران) کہنے لگے کہ ہم رستہ بھول گئے ہیں
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ ( 27 ) قلم - الآية 27
نہیں بلکہ ہم (برگشتہ نصیب) بےنصیب ہیں
قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ ( 28 ) قلم - الآية 28
ایک جو اُن میں فرزانہ تھا بولا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟
قَالُوا سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ ( 29 ) قلم - الآية 29
(تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بےشک ہم ہی قصوروار تھے
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ ( 30 ) قلم - الآية 30
پھر لگے ایک دوسرے کو رو در رو ملامت کرنے
قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ ( 31 ) قلم - الآية 31
کہنے لگے ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے
عَسَىٰ رَبُّنَا أَن يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِّنْهَا إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا رَاغِبُونَ ( 32 ) قلم - الآية 32
امید ہے کہ ہمارا پروردگار اس کے بدلے میں ہمیں اس سے بہتر باغ عنایت کرے ہم اپنے پروردگار کی طرف سے رجوع لاتے ہیں
كَذَٰلِكَ الْعَذَابُ ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ( 33 ) قلم - الآية 33
(دیکھو) عذاب یوں ہوتا ہے۔ اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش! یہ لوگ جانتے ہوتے
إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ ( 34 ) قلم - الآية 34
پرہیزگاروں کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں نعمت کے باغ ہیں
أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ ( 35 ) قلم - الآية 35
کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کی طرف (نعمتوں سے) محروم کردیں گے؟
مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ( 36 ) قلم - الآية 36
تمہیں کیا ہوگیا ہے کیسی تجویزیں کرتے ہو؟
أَمْ لَكُمْ كِتَابٌ فِيهِ تَدْرُسُونَ ( 37 ) قلم - الآية 37
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں (یہ) پڑھتے ہو
إِنَّ لَكُمْ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ ( 38 ) قلم - الآية 38
کہ جو چیز تم پسند کرو گے وہ تم کو ضرور ملے گی
أَمْ لَكُمْ أَيْمَانٌ عَلَيْنَا بَالِغَةٌ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۙ إِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ ( 39 ) قلم - الآية 39
یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت کے دن تک چلی جائیں گی کہ جس شے کا تم حکم کرو گے وہ تمہارے لئے حاضر ہوگی
سَلْهُمْ أَيُّهُم بِذَٰلِكَ زَعِيمٌ ( 40 ) قلم - الآية 40
ان سے پوچھو کہ ان میں سے اس کا کون ذمہ لیتا ہے؟
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ فَلْيَأْتُوا بِشُرَكَائِهِمْ إِن كَانُوا صَادِقِينَ ( 41 ) قلم - الآية 41
کیا (اس قول میں) ان کے اور بھی شریک ہیں؟ اگر یہ سچے ہیں تو اپنے شریکوں کو لا سامنے کریں
يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ ( 42 ) قلم - الآية 42
جس دن پنڈلی سے کپڑا اٹھا دیا جائے گا اور کفار سجدے کے لئے بلائے جائیں گے تو سجدہ نہ کرسکیں گے
خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۖ وَقَدْ كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سَالِمُونَ ( 43 ) قلم - الآية 43
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی حالانکہ پہلے (اُس وقت) سجدے کے لئے بلاتے جاتے تھے جب کہ صحیح وسالم تھے
فَذَرْنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَٰذَا الْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ ( 44 ) قلم - الآية 44
تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دو۔ ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی
وَأُمْلِي لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ ( 45 ) قلم - الآية 45
اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر قوی ہے
أَمْ تَسْأَلُهُمْ أَجْرًا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ ( 46 ) قلم - الآية 46
کیا تم ان سے کچھ اجر مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے
أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ ( 47 ) قلم - الآية 47
یا ان کے پاس غیب کی خبر ہے کہ (اسے) لکھتے جاتے ہیں
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَىٰ وَهُوَ مَكْظُومٌ ( 48 ) قلم - الآية 48
تو اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو اور مچھلی (کا لقمہ ہونے) والے یونس کی طرح رہو نا کہ انہوں نے (خدا) کو پکارا اور وہ (غم و) غصے میں بھرے ہوئے تھے
لَّوْلَا أَن تَدَارَكَهُ نِعْمَةٌ مِّن رَّبِّهِ لَنُبِذَ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ مَذْمُومٌ ( 49 ) قلم - الآية 49
اگر تمہارے پروردگار کی مہربانی ان کی یاوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیئے جاتے اور ان کا حال ابتر ہوجاتا
فَاجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصَّالِحِينَ ( 50 ) قلم - الآية 50
پھر پروردگار نے ان کو برگزیدہ کرکے نیکوکاروں میں کرلیا
وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ ( 51 ) قلم - الآية 51
اور کافر جب (یہ) نصیحت (کی کتاب) سنتے ہیں تو یوں لگتے ہیں کہ تم کو اپنی نگاہوں سے پھسلا دیں گے اور کہتے یہ تو دیوانہ ہے
وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ ( 52 ) قلم - الآية 52
اور (لوگو) یہ (قرآن) اہل عالم کے لئے نصیحت ہے

کتب

  • توحيد ہم کیسے سمجھیں؟زیر نظر کتابچہ کو عربی زبان میں شیخ محمد بن احمد باشمیل رحمہ اللہ نے توحید کی حقیقت کو اچھی طرح واضح کرنے کیلئے سوال وجواب کے حسین اور دلکش پیرائے میں مدلل انداز سے قلم بند کیا ہے جسے فضیلۃ الشیخ /عبد المجید مدنی حفظہ اللہ نے امت کے فائدے کی خا طر اردو قالب میں ڈھا لنے کی کوشش کی ہے.نہایت ہی مفید کتابچہ ہے ضرور فائدہ حاصل کریں.

    تاليف : محمداحمد باشمیل

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/330629

    التحميل :توحيد ہم کیسے سمجھیں؟

  • عاشوراء محرّم روزِ عيد يا روز غم وماتم؟يوم عاشوراء کو عہد رسالت ہی سے عید وسروركادن قراردیا گیا ہے لہذا ان ایام کو گریہ وماتم ورنج والم کے ایام قراردینا سراسر کفران نعمت ہے-خواہ ان میں کیسا ہی غم انگیزحادثہ رونما ہوجائے-لیکن ان ایام کی مستقل حیثیت وہی رہے گی جو اسلام نے ٹہرائی ہے مگرافسوس ! کہ امت مسلمہ کے ایک طبقہ نے یوم عاشوراء سے بالکل نا آشنا ہوکر غلط اور باطل افکارکا شکارہوکر اسے مستقل طور پرغم والم کا دن قراردیدیا ہے اورمختلف قسم کے شرک وبدعت اورگناہ میں ملوّث نظرآتا ہے. زیرنظرکتاب شیخ الحدیث عبید اللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ کی محرّم کے باب میں سب سے جامع اورمانع کتاب ہے ضرورمطالعہ کریں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/190995

    التحميل :عاشوراء محرّم روزِ عيد يا روز غم وماتم؟

  • منکرین حدیث اور مسئلہ تقدیریہ کتاب محرِّفِ قرآن اور منکر حدیث پرویز کے مسئلہ تقدیر کے ضمن میں پیش کیے گئے دلائل کا قرآن وحدیث اور اجماع امت کے حوالے سے جواب دیا گیا ہے اور اس ضمن میں ان اغلاط کی نشاندہی کی گئی ہےجن سے صرف نظر کرنے کے باعث مسئلہ تقدیرکا عملی طور پر انکار کرتے ہوئے لفظ تقدیر کو محض ایک اصطلاح قراردینے کی کوشش کی ہے.

    تاليف : عطاء الله ڈيروي

    نظر ثانی کرنے والا : عطاء الرحمن ضياء الله

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/328606

    التحميل :منکرین حدیث اور مسئلہ تقدیر

  • اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟زیر مطالعہ کتاب در اصل محمد حنیف شاہد کی کتاب " Why Islam is our choice " کا اردو ترجمہ ہے-جس میں مصنف نے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے قبول اسلام کے حوالہ سے واقعاتِ زندگی، تجربات، سابقہ عقائد، اسلام کے بارے میں تاثرات اور قبول اسلام کی وجوہات پر مبنی بیانات کو جمع کیا ہے- کتاب میں انتہائی عرق ریزی کے ساتھ کرہ ارض کے طول وعرض میں پھیلی ہوئی مختلف قومیتوں کے رؤساء، دانشور، معززین اور عام مرد و خواتین کے اسلام اور قرآن کے بارے میں خیالات ومشاہدات پیش کیے گئے ہیں- ضرور مطالعہ کریں.

    تاليف : محمد حنیف شاہد

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    ترجمہ کرنے والا : پروفیسر منور على ملک

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/276719

    التحميل :اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟

  • روزہ تراویح اور زکوۃ کے متعلق اہم احکام و مسائلیہ کتاب روزہ تراویح اور زکوۃ کے متعلق اہم احکام و مسائل پر مشتمل ہے, اس میں آٹھ فصول ہیں جو درج ذیل ہیں: فصل اول: روزہ کے حکم کے بیان میں فصل دوم: روزہ کی حکمتوں اور فوائد کے بیان میں فصل سوم: مسافر اور مریض کے روزے کے بیان میں فصل چہارم: روزے کے مفسدات کے بیان میں فصل پنجم: تراویح کے بیان میں فصل ششم: زکوۃ اور اس کے فوائد کے بیان میں فصل ہفتم: زکوۃ کے مستحقین کے بیان میں فصل ہشتم: زکوۃ الفطر کے بیان میں نیززکوۃ نکالنے کی کیفیت پر مشتمل ایک ضمیہ بھی شامل کتاب ہے.

    تاليف : محمد بن صالح العثيمين

    نظر ثانی کرنے والا : جاوید احمد

    ترجمہ کرنے والا : عطاء الرحمن ضياء الله

    اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/177689

    التحميل :روزہ تراویح اور زکوۃ کے متعلق اہم احکام و مسائل