اختر القاريء
اردو
سورہ نجم - آیات کی تعداد 62
لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ ( 18 )
انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں
إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَىٰ ( 23 )
وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں۔ خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے
وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ ( 26 )
اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے
إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ لَيُسَمُّونَ الْمَلَائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنثَىٰ ( 27 )
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں
وَمَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ( 28 )
حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں۔ وہ صرف ظن پر چلتے ہیں۔ اور ظن یقین کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا
فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ( 29 )
تو جو ہماری یاد سے روگردانی اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو
ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ الْعِلْمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَىٰ ( 30 )
ان کے علم کی انتہا یہی ہے۔ تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا
وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى ( 31 )
اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلا دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے
الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ ( 32 )
جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے۔ وہ تم کو خوب جانتا ہے۔ جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچّے تھے۔ تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ۔ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ ( 36 )
کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی
أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ( 38 )
یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ( 39 )
اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ ( 45 )
اور یہ کہ وہی نر اور مادہ دو قسم (کے حیوان) پیدا کرتا ہے
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَىٰ ( 52 )
اور ان سے پہلے قوم نوحؑ کو بھی۔ کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ ( 55 )
تو (اے انسان) تو اپنے پروردگار کی کون سی نعمت پر جھگڑے گا
هَٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ ( 56 )
یہ (محمدﷺ) بھی اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیں
کتب
- لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہزبان سے کہ بھی دیا لاالہ توکیا حاصل دل ونگاہ مسلماں نہیں توکچھ بھی نہیں کلمہ شہادتین کا زبان سے اقرار,دل سے تصدیق اورعمل سے اسکا اظہارکرنا مسلمان بننے کیلئےضروری ہے لیکن اکثرلوگ اس کلمہ کے مفہوم و مقتضى اور شروط کونہیں سمجھتے بلکہ اسکے مخالف نظرآتے ہیں اس کتاب میں کلمہ طیبہ کے معنى ,مفہوم اورشرائط وتقاضوں کے بارے میں تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے نہایت ہی مفید کتاب ہے.
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی - محمد اقبال عبد العزیز
اصدارات : مكتبة دار السلام
- عاشوراء محرّم روزِ عيد يا روز غم وماتم؟يوم عاشوراء کو عہد رسالت ہی سے عید وسروركادن قراردیا گیا ہے لہذا ان ایام کو گریہ وماتم ورنج والم کے ایام قراردینا سراسر کفران نعمت ہے-خواہ ان میں کیسا ہی غم انگیزحادثہ رونما ہوجائے-لیکن ان ایام کی مستقل حیثیت وہی رہے گی جو اسلام نے ٹہرائی ہے مگرافسوس ! کہ امت مسلمہ کے ایک طبقہ نے یوم عاشوراء سے بالکل نا آشنا ہوکر غلط اور باطل افکارکا شکارہوکر اسے مستقل طور پرغم والم کا دن قراردیدیا ہے اورمختلف قسم کے شرک وبدعت اورگناہ میں ملوّث نظرآتا ہے. زیرنظرکتاب شیخ الحدیث عبید اللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ کی محرّم کے باب میں سب سے جامع اورمانع کتاب ہے ضرورمطالعہ کریں.
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
- جاھلیت کے مسائلاس کتاب میں بڑے دلنشیں انداز میں ان تمام مسائل کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی ھے جو زمانہ قدیم میں جاھلیت کا طرہ امتیاز سمجھا جاتا تھا اور بد قسمتی سے آج مسلمانوں میں دوبارہ رائج ھونے لگی ھے ۔ یہ کتاب شیخ الاسلام محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کی معرکۃ الآراء کتابوں میں سے ایک ھے ۔
تاليف : محمد بن سليمان التميمي
ترجمہ کرنے والا : عطاء الرحمن ثاقب
اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض
- توسل احکام اور انواعزیرنظرکتاب میں جائز وناجائزوسیلہ کے احکام واقسام نیز بدعی توسل سے متعلق پائی جانے والی تمام کمزور دلائل ا ور شکوک وشبہات کا شرعی تفصیلی جائزہ لے کرانکا مسکت جواب دیا گیا ہے میری نظرمیں شیخ الإسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب" قاعدۃ جلیلۃ فی التوسل والوسیلۃ " کےیعد یہ کتاب توسل کے باب میں نہایت ہی اہم اورجامع ومانع سمجھی جاتی ہے.
تاليف : محمد ناصر الدين الألباني
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
ترجمہ کرنے والا : مختار احمد الندوی
- مقام صحابہ رضی اللہ عنہمجسطرح قرآن مجيد كي تفسيروتعبير نبي صلى الله عليه وسلم کی سیرت طیبہ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی بالکل اسی طرح رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کی تعبیروتکمیل اور بقا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل وکردار کے بغیر ممکن نہیں’ کیونکہ صحابہ کرام ہی رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے علم کے وارث’آپ کے سفیر اور آپ کے مبلغ ہیں’ سارا دین ان ہی کے توسط سے امت کے پاس پہنچا اور وہ پوری امت کے محسن ہیں. امام ابوبكر الآجري رحمه الله نے بسند حسن امام حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:"وہ محمد صلى اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تھے وہ اس امت کے سب سے زیادہ نیک دل’ سب سے زیادہ گہرا علم رکھنے والے اور سب سے کم تکلّف کرنے والے تھے’ وہ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ تعالى نے اپنے دین کو سرفراز کرنے اور اپنے نبی کی صحبت کیلئے منتخب کیا’ انکے اخلاق واطوار کو اختیارکرو’ ربِ کعبہ کی قسم وہ صراطِ مستقیم پر تھے-" (کتاب الشریعة: 1/1686). /1686). یہ رُتبہ بلند ملا جسکو مل گیا ہرمُدّعى کے واسطے دار و رَسَن کہاں کتاب مذکورمیں محقّقِ عصرعلّامہ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے انہی نفوس قدسیہ کے مقام ومرتبہ کواجاگرکرکے ان سے اپنی محبت وعقیدت کا اظہار کیاہے،اوران ميں سے بعض کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے فکر کی کجی اور زیع کو بھی طشت ازبام کیاہے بلکہ علامہ ابن الوزیرالیمانی رحمہ اللہ نے جواپنی تمام ترعظمتوں کے باوجود اس مسئلہ میں سلفِ امت سے علیحدگی اختیارکرکے بعض صحابہ کی عدالت کو ہدف تنقید بنایا ہے اسے بھی بے نقاب کیا ہے اور انکی بے اعتدالیوں کو اجاگرکیاہے نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ فرمائیں.
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی - عبد الحى انصارى - طارق محمود ثاقب - محمد خبیب احمد












