اردو - سورہ ق - قرآن کریم

قرآن کریم » اردو » سورہ ق

اختر القاريء


اردو

سورہ ق - آیات کی تعداد 45
ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ( 1 ) ق - الآية 1
قٓ۔ قرآن مجید کی قسم (کہ محمد پیغمبر خدا ہیں)
بَلْ عَجِبُوا أَن جَاءَهُم مُّنذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا شَيْءٌ عَجِيبٌ ( 2 ) ق - الآية 2
لیکن ان لوگوں نے تعجب کیا کہ انہی میں سے ایک ہدایت کرنے والا ان کے پاس آیا تو کافر کہنے لگے کہ یہ بات تو (بڑی) عجیب ہے
أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا ۖ ذَٰلِكَ رَجْعٌ بَعِيدٌ ( 3 ) ق - الآية 3
بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی ہوگئے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندہ ہونا (عقل سے) بعید ہے
قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ ۖ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ ( 4 ) ق - الآية 4
ان کے جسموں کو زمین جتنا (کھا کھا کر) کم کرتی جاتی ہے ہمیں معلوم ہے۔ اور ہمارے پاس تحریری یادداشت بھی ہے
بَلْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَّرِيجٍ ( 5 ) ق - الآية 5
بلکہ (عجیب بات یہ ہے کہ) جب ان کے پاس (دین) حق آ پہنچا تو انہوں نے اس کو جھوٹ سمجھا سو یہ ایک الجھی ہوئی بات میں (پڑ رہے) ہیں
أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ ( 6 ) ق - الآية 6
کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیونکر بنایا اور (کیونکر) سجایا اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں
وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ( 7 ) ق - الآية 7
اور زمین کو (دیکھو اسے) ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ رکھ دیئے اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اُگائیں
تَبْصِرَةً وَذِكْرَىٰ لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ ( 8 ) ق - الآية 8
تاکہ رجوع لانے والے بندے ہدایت اور نصیحت حاصل کریں
وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُّبَارَكًا فَأَنبَتْنَا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ ( 9 ) ق - الآية 9
اور آسمان سے برکت والا پانی اُتارا اور اس سے باغ وبستان اُگائے اور کھیتی کا اناج
وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيدٌ ( 10 ) ق - الآية 10
اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا گابھا تہہ بہ تہہ ہوتا ہے
رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ ۖ وَأَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا ۚ كَذَٰلِكَ الْخُرُوجُ ( 11 ) ق - الآية 11
(یہ سب کچھ) بندوں کو روزی دینے کے لئے (کیا ہے) اور اس (پانی) سے ہم نے شہر مردہ (یعنی زمین افتادہ) کو زندہ کیا۔ (بس) اسی طرح (قیامت کے روز) نکل پڑنا ہے
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُودُ ( 12 ) ق - الآية 12
ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں
وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَانُ لُوطٍ ( 13 ) ق - الآية 13
اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی
وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ۚ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ ( 14 ) ق - الآية 14
اور بن کے رہنے والے اور تُبّع کی قوم۔ (غرض) ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہمارا وعید (عذاب) بھی پورا ہو کر رہا
أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ ۚ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ ( 15 ) ق - الآية 15
کیا ہم پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے ہیں؟ (نہیں) بلکہ یہ ازسرنو پیدا کرنے میں شک میں (پڑے ہوئے) ہیں
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ( 16 ) ق - الآية 16
اور ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں۔ اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں
إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ ( 17 ) ق - الآية 17
جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، لکھ لیتے ہیں
مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ( 18 ) ق - الآية 18
کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے
وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۖ ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ ( 19 ) ق - الآية 19
اور موت کی بےہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی۔ (اے انسان) یہی (وہ حالت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْوَعِيدِ ( 20 ) ق - الآية 20
اور صور پھونکا جائے گا۔ یہی (عذاب کے) وعید کا دن ہے
وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ ( 21 ) ق - الآية 21
اور ہر شخص (ہمارے سامنے) آئے گا۔ ایک (فرشتہ) اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک (اس کے عملوں کی) گواہی دینے والا
لَّقَدْ كُنتَ فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ ( 22 ) ق - الآية 22
(یہ وہ دن ہے کہ) اس سے تو غافل ہو رہا تھا۔ اب ہم نے تجھ پر سے پردہ اُٹھا دیا۔ تو آج تیری نگاہ تیز ہے
وَقَالَ قَرِينُهُ هَٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيدٌ ( 23 ) ق - الآية 23
اور اس کا ہم نشین (فرشتہ) کہے گا کہ یہ (اعمال نامہ) میرے پاس حاضر ہے
أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍ ( 24 ) ق - الآية 24
(حکم ہوگا کہ) ہر سرکش ناشکرے کو دوزخ میں ڈال دو
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيبٍ ( 25 ) ق - الآية 25
جو مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھنے والا شبہے نکالنے والا تھا
الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَأَلْقِيَاهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِ ( 26 ) ق - الآية 26
جس نے خدا کے ساتھ اور معبود مقرر کر رکھے تھے۔ تو اس کو سخت عذاب میں ڈال دو
قَالَ قَرِينُهُ رَبَّنَا مَا أَطْغَيْتُهُ وَلَٰكِن كَانَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ ( 27 ) ق - الآية 27
اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ آپ ہی رستے سے دور بھٹکا ہوا تھا
قَالَ لَا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُم بِالْوَعِيدِ ( 28 ) ق - الآية 28
(خدا) فرمائے گا کہ ہمارے حضور میں ردوکد نہ کرو۔ ہم تمہارے پاس پہلے ہی (عذاب کی) وعید بھیج چکے تھے
مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ ( 29 ) ق - الآية 29
ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے
يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِن مَّزِيدٍ ( 30 ) ق - الآية 30
اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ ( 31 ) ق - الآية 31
اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی (کہ مطلق) دور نہ ہوگی
هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ ( 32 ) ق - الآية 32
یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (یعنی) ہر رجوع لانے والے حفاظت کرنے والے سے
مَّنْ خَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ ( 33 ) ق - الآية 33
جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع لانے والا دل لے کر آیا
ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ ۖ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْخُلُودِ ( 34 ) ق - الآية 34
اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے
لَهُم مَّا يَشَاءُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ ( 35 ) ق - الآية 35
وہاں وہ جو چاہیں گے ان کے لئے حاضر ہے اور ہمارے ہاں اور بھی (بہت کچھ) ہے
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هُمْ أَشَدُّ مِنْهُم بَطْشًا فَنَقَّبُوا فِي الْبِلَادِ هَلْ مِن مَّحِيصٍ ( 36 ) ق - الآية 36
اور ہم نے ان سے پہلے کئی اُمتیں ہلاک کر ڈالیں۔ وہ ان سے قوت میں کہیں بڑھ کر تھے وہ شہروں میں گشت کرنے لگے۔ کیا کہیں بھاگنے کی جگہ ہے؟
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ ( 37 ) ق - الآية 37
جو شخص دل (آگاہ) رکھتا ہے یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے اس کے لئے اس میں نصیحت ہے
وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٍ ( 38 ) ق - الآية 38
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے سب کو چھ دن میں بنا دیا۔ اور ہم کو ذرا تکان نہیں ہوئی
فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ ( 39 ) ق - الآية 39
تو جو کچھ یہ (کفار) بکتے ہیں اس پر صبر کرو اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو
وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُودِ ( 40 ) ق - الآية 40
اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس (کے نام) کی تنزیہ کیا کرو
وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ ( 41 ) ق - الآية 41
اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا
يَوْمَ يَسْمَعُونَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْخُرُوجِ ( 42 ) ق - الآية 42
جس دن لوگ چیخ یقیناً سن لیں گے۔ وہی نکل پڑنے کا دن ہے
إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي وَنُمِيتُ وَإِلَيْنَا الْمَصِيرُ ( 43 ) ق - الآية 43
ہم ہی تو زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے
يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا ۚ ذَٰلِكَ حَشْرٌ عَلَيْنَا يَسِيرٌ ( 44 ) ق - الآية 44
اس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ جھٹ پٹ نکل کھڑے ہوں گے۔ یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے
نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ ۖ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ ۖ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ ( 45 ) ق - الآية 45
یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور تم ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ پس جو ہمارے (عذاب کی) وعید سے ڈرے اس کو قرآن سے نصیحت کرتے رہو

کتب

  • اسلام میں پکی قبروں کی حیثیتیہ علامہ شوکانی رحمہ اللہ کی معرکۃ الآراء کتاب ھے، اس میں موصوف نے بہت ساری احادیث اور اقوال اھل علم سے قبروں کو پکی بنانے کو حرام ثابت کیا ھے ۔

    تاليف : محمد علي الشوكاني

    نظر ثانی کرنے والا : نوفل شہروز - مسعود احمد - حسان رشيد

    ترجمہ کرنے والا : سيف الرحمن الفلاح

    اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/2325

    التحميل :اسلام میں پکی قبروں کی حیثیت

  • پیارے نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی پیاری زندگیپیارے نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی پیاری زندگی: سیرت نبوی صلى اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بچوں کیلئے عرفان جمیل کی یہ نہایت ہی عمدہ پیشکش ہے جسمیں سوال وجواب (مکا لمے) کے اندازمیں نبی پاک صلى اللہ علیہ وسلم کی پیاری زندگی کے تمام گوشوں کے بارے میں تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے جسکے مطالعہ سے آپ صلى اللہ علیہ وسلم سےمحبت میں مزید اضافہ پیدا ہوجاتا ہے.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/249930

    التحميل :پیارے نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی پیاری زندگی

  • تاریخ خانہ کعبہتاریخ خانہ کعبہ:اپنے موضوع پر یہ اردو میں پہلی کتاب ہے۔ اگرچہ اس کتاب میں خانہ کعبہ یا مسجد حرام کی مکمل تاریخ نہیں لکھی گئی۔ البتہ بہت سی باتیں بطور مناسبت ذکر کی گئی ہیں۔ خانۂ کعبہ اور مسجد حرام کے حدود اور ان اضافوں کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے جو وقتاً فوقتاً ہوتے رہے ہیں۔ نیز فضائل کعبہ کی بحث بھی شامل ہے تاکہ مقام مقدّس کے زائرین کے لئے مزید توضیح کا سبب ہو۔ ضمناً کچھ بیان حجر اسماعیل اور غار کعبہ کے بارے میں بھی آ گیا ہے۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے عمدہ کتاب ہے۔ ضرور مطالعہ کریں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/325903

    التحميل :تاریخ خانہ کعبہ

  • عربی زبان غیر عرب کو آپ کیسے پڑھائیں (اساتذہِ عربی کے لئے رہنما کتاب )زیر نظر کتاب میں عربی زبان پڑھانے والے اساتذہ کرام کیلئے چھوٹے چھوٹے محاضرات کا اردو مجموعہ نہایت ہی عمدہ اسلوب میں پیش کیا گیا ہے جس سے غیر عرب (عجم) حضرات کو عربی زبان سکھلانے میں کافی آسانی ہوگی –

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/318514

    التحميل :عربی زبان غیر عرب کو آپ کیسے پڑھائیں (اساتذہِ عربی کے لئے رہنما کتاب )

  • مختصر منہاج القاصدینزیرنظر کتاب علامہ ابن جوزی کی مشہورتصنیف منہاج القاصدین مختصراحیاء علوم الدین کی تلخیص ہے جسکوعلامہ ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ نے سرانجام دیا ہے .علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے امام غزالی کی مشہور کتاب احیاء علوم الدین کا مطالعہ کرکے اسمیں سے ضعیف وباطل روایات اور متصوفانہ باتوں کو حذف کردیا اور کتاب کو چار اہم ابواب میں تقسیم کیا-1 عبادات 2- عادات- 3- مہلکات 4- منجیات- اور ہر ایک باب کے تحت کئی اہم فصول مرتب کیا, ان فصول میں اصلاح معاشرہ, اعمال قلوب ,تربیت اخلاق , اور تصوف وفلسفہ وغیرہ سے متعلق نہایت ہی سیر حاصل کلام کیا, لیکن وسیع وعریض ابواب وفصول کی وجہ سے کتاب کا مطالعہ قارئین کیلئے مشکل تھی اسلئے علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ نے غیرضروری فقی مسائل کوحذف کرکے علماء وعوام کیلئے اسکا مطالعہ آسان کردیا اوراسکا نام رکھا" مختصرمنہاج القاصدین". چونکہ کتاب اصلاح معاشرہ اور تزکیہ نفس کے باب میں بہت اہم تھی اسلئے مشہور عالم دین محمد سلیمان کیلانی حفظہ اللہ نے اردو داں طبقہ کی آسانی کیلئے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے . نہایت ہی مفید کتا ب ہے ضرور استفادہ حاصل کریں.

    تاليف : ابن قدامہ مقدسی

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/329651

    التحميل :مختصر منہاج القاصدین