اختر القاريء
اردو
سورہ صافات - آیات کی تعداد 182
رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ ( 5 )
جو آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان میں ہیں سب کا مالک ہے اور سورج کے طلوع ہونے کے مقامات کا بھی مالک ہے
إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ ( 6 )
بےشک ہم ہی نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزین کیا
لَّا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٍ ( 8 )
کہ اوپر کی مجلس کی طرف کان نہ لگاسکیں اور ہر طرف سے (ان پر انگارے) پھینکے جاتے ہیں
إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ ( 10 )
ہاں جو کوئی (فرشتوں کی کسی بات کو) چوری سے جھپٹ لینا چاہتا ہے تو جلتا ہوا انگارہ ان کے پیچھے لگتا ہے
فَاسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَم مَّنْ خَلَقْنَا ۚ إِنَّا خَلَقْنَاهُم مِّن طِينٍ لَّازِبٍ ( 11 )
تو ان سے پوچھو کہ ان کا بنانا مشکل ہے یا جتنی خلقت ہم نے بنائی ہے؟ انہیں ہم نے چپکتے گارے سے بنایا ہے
أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ( 16 )
بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا پھر اٹھائے جائیں گے؟
فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُمْ يَنظُرُونَ ( 19 )
وہ تو ایک زور کی آواز ہوگی اور یہ اس وقت دیکھنے لگیں گے
هَٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ ( 21 )
(کہا جائے گا کہ ہاں) فیصلے کا دن جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے یہی ہے
احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ ( 22 )
جو لوگ ظلم کرتے تھے ان کو اور ان کے ہم جنسوں کو اور جن کو وہ پوجا کرتے تھے (سب کو) جمع کرلو
مِن دُونِ اللَّهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ ( 23 )
(یعنی جن کو) خدا کے سوا (پوجا کرتے تھے) پھر ان کو جہنم کے رستے پر چلا دو
وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ ( 27 )
اور ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال (وجواب) کریں گے
قَالُوا إِنَّكُمْ كُنتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ ( 28 )
کہیں گے کیا تم ہی ہمارے پاس دائیں (اور بائیں) سے آتے تھے
وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ ۖ بَلْ كُنتُمْ قَوْمًا طَاغِينَ ( 30 )
اور ہمارا تم پر کچھ زور نہ تھا۔ بلکہ تم سرکش لوگ تھے
فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَا ۖ إِنَّا لَذَائِقُونَ ( 31 )
سو ہمارے بارے میں ہمارے پروردگار کی بات پوری ہوگئی اب ہم مزے چکھیں گے
فَأَغْوَيْنَاكُمْ إِنَّا كُنَّا غَاوِينَ ( 32 )
ہم نے تم کو بھی گمراہ کیا (اور) ہم خود بھی گمراہ تھے
فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ ( 33 )
پس وہ اس روز عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہوں گے
إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ ( 35 )
ان کا یہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں تو غرور کرتے تھے
وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ ( 36 )
اور کہتے تھے کہ بھلا ہم ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں
بَلْ جَاءَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِينَ ( 37 )
بلکہ وہ حق لے کر آئے ہیں اور (پہلے) پیغمبروں کو سچا کہتے ہیں
وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ( 39 )
اور تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے
لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ ( 47 )
نہ اس سے دردِ سر ہو اور نہ وہ اس سے متوالے ہوں گے
وَعِندَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ ( 48 )
اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں گی اور آنکھیں بڑی بڑی
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ ( 50 )
پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال (وجواب) کریں گے
قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٌ ( 51 )
ایک کہنے والا ان میں سے کہے گا کہ میرا ایک ہم نشین تھا
يَقُولُ أَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِينَ ( 52 )
(جو) کہتا تھا کہ بھلا تم بھی ایسی باتوں کے باور کرنے والوں میں ہو
أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَدِينُونَ ( 53 )
بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم کو بدلہ ملے گا؟
فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ ( 55 )
(اتنے میں) وہ (خود) جھانکے گا تو اس کو وسط دوزخ میں دیکھے گا
وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ ( 57 )
اور اگر میرے پروردگار کی مہربانی نہ ہوتی تو میں بھی ان میں ہوتا جو (عذاب میں) حاضر کئے گئے ہیں
إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ ( 59 )
ہاں (جو) پہلی بار مرنا (تھا سو مرچکے) اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہونے کا
لِمِثْلِ هَٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ ( 61 )
ایسی ہی (نعمتوں) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنے چاہئیں
فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ( 66 )
سو وہ اسی میں سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے
ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيمٍ ( 67 )
پھر اس (کھانے) کے ساتھ ان کو گرم پانی ملا کر دیا جائے گا
وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الْأَوَّلِينَ ( 71 )
اور ان سے پیشتر بہت سے لوگ بھی گمراہ ہوگئے تھے
فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنذَرِينَ ( 73 )
سو دیکھ لو کہ جن کو متنبہ کیا گیا تھا ان کا انجام کیسا ہوا
وَلَقَدْ نَادَانَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِيبُونَ ( 75 )
اور ہم کو نوح نے پکارا سو (دیکھ لو کہ) ہم (دعا کو کیسے) اچھے قبول کرنے والے ہیں
وَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ ( 76 )
اور ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑی مصیبت سے نجات دی
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ ( 85 )
جب انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟
أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ ( 86 )
کیوں جھوٹ (بنا کر) خدا کے سوا اور معبودوں کے طالب ہو؟
فَرَاغَ إِلَىٰ آلِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ ( 91 )
پھر ابراہیم ان کے معبودوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ تم کھاتے کیوں نہیں؟
قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ ( 95 )
انہوں نے کہا کہ تم ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہو جن کو خود تراشتے ہو؟
وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ( 96 )
حالانکہ تم کو اور جو تم بناتے ہو اس کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے
قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ ( 97 )
وہ کہنے لگے کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ پھر اس کو آگ کے ڈھیر میں ڈال دو
فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَسْفَلِينَ ( 98 )
غرض انہوں نے ان کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی اور ہم نے ان ہی کو زیر کردیا
وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ ( 99 )
اور ابراہیم بولے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے رستہ دکھائے گا
رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ ( 100 )
اے پروردگار مجھے (اولاد) عطا فرما (جو) سعادت مندوں میں سے (ہو)
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ( 102 )
جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تم کو ذبح کر رہا ہوں تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابا جو آپ کو حکم ہوا ہے وہی کیجیئے خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پایئے گا
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ( 103 )
جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا
قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ( 105 )
تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ ( 108 )
اور پیچھے آنے والوں میں ابراہیم کا (ذکر خیر باقی) چھوڑ دیا
وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ ( 112 )
اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی (کہ وہ) نبی (اور) نیکوکاروں میں سے (ہوں گے)
وَبَارَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَىٰ إِسْحَاقَ ۚ وَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ مُبِينٌ ( 113 )
اور ہم نے ان پر اور اسحاق پر برکتیں نازل کی تھیں۔ اور ان دونوں اولاد کی میں سے نیکوکار بھی ہیں اور اپنے آپ پر صریح ظلم کرنے والے (یعنی گنہگار) بھی ہیں
وَنَجَّيْنَاهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ ( 115 )
اور ان کو اور ان کی قوم کو مصیبت عظیمہ سے نجات بخشی
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِمَا فِي الْآخِرِينَ ( 119 )
اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (خیر باقی) چھوڑ دیا
أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ ( 125 )
کیا تم بعل کو پکارتے (اور اسے پوجتے) ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو
اللَّهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ ( 126 )
(یعنی) خدا کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا پروردگار ہے
فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ ( 127 )
تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ سو وہ (دوزخ میں) حاضر کئے جائیں گے
إِذْ نَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ ( 134 )
جب ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو سب کو (عذاب سے) نجات دی
وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ ( 137 )
اور تم دن کو بھی ان (کی بستیوں) کے پاس سے گزرتے رہتے ہو
فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ ( 142 )
پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (قابل) ملامت (کام) کرنے والے تھے
لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ( 144 )
تو اس روز تک کہ لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اسی کے پیٹ میں رہتے
فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ ( 145 )
پھر ہم نے ان کو جب کہ وہ بیمار تھے فراخ میدان میں ڈال دیا
وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ ( 147 )
اور ان کو لاکھ یا اس سے زیادہ (لوگوں) کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا
فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ ( 148 )
تو وہ ایمان لے آئے سو ہم نے بھی ان کو (دنیا میں) ایک وقت (مقرر) تک فائدے دیتے رہے
فَاسْتَفْتِهِمْ أَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَلَهُمُ الْبَنُونَ ( 149 )
ان سے پوچھو تو کہ بھلا تمہارے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں اور ان کے لئے بیٹے
أَمْ خَلَقْنَا الْمَلَائِكَةَ إِنَاثًا وَهُمْ شَاهِدُونَ ( 150 )
یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے
وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا ۚ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ ( 158 )
اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا۔ حالانکہ جنات جانتے ہیں کہ وہ (خدا کے سامنے) حاضر کئے جائیں گے
وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ ( 164 )
اور (فرشتے کہتے ہیں کہ) ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے
لَوْ أَنَّ عِندَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْأَوَّلِينَ ( 168 )
کہ اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی نصیحت (کی کتاب) ہوتی
فَكَفَرُوا بِهِ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ( 170 )
لیکن (اب) اس سے کفر کرتے ہیں سو عنقریب ان کو (اس کا نتیجہ) معلوم ہوجائے گا
وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ ( 171 )
اور اپنے پیغام پہنچانے والے بندوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے
وَأَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ ( 175 )
اور انہیں دیکھتے رہو۔ یہ بھی عنقریب (کفر کا انجام) دیکھ لیں گے
فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنذَرِينَ ( 177 )
مگر جب وہ ان کے میدان میں آ اُترے گا تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا ان کے لئے برا دن ہوگا
کتب
- مذاہب عالم ميں تصور خدا اور اسلام کے بارے میں غیر مسلموں کے بیس سوالاس عالم رنگ ویو میں لا تعداد مذاہب پائے جاتےہیں ان مذاہب میں قدر مشترک یہ ہے کہ یہ تمام کے تمام ایک عالمگیراللہ اور ایک برتر ہستی پر یقین رکھتے ہیں جو قادر مطلق اور عالم کل ہے- زیر نظر کتاب اسی موضوع پر دنیا کے مشہور ومعروف دانشور ڈاکٹر عبدالکریم ذاکر نائیک کی شاندار تصنیف ہے- کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے - پہلے حصے میں مصنف نے دنیا کےبڑے بڑے مذاہب، جن میں ہندومت، عیسائیت، یہودیت اور اسلام شامل ہیں، میں اللہ کے حوالے سے پائے جانے والے تصور کو ان کی کتابوں کی روشنی میں واضح کیا ہے – کتاب کے دوسرے حصے میں موصوف نے اسلام کے متعلق غیر مسلموں کے بہت سے اشکالات مثلا کثرت ازواج، مسلمانوں کا طریقہ ذبح،شراب کی حرمت اسلام میں کیوں ہے؟گوشت خوری کیوں جائز ہے،اور مسلمان دہشت گرد کیوں ہوتا ہے اس طرح کے تمام اشکا لات کا تسلی بخش جواب دیتے ہوئے ان موضوعات پر علمی انداز میں کافی وشافی بحث کی ہے-
تاليف : ذاكر نايك
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
- توحید کا نور اور شرک کی تاریکیاں کتاب وسنت کی روشنی میںتوحید کی نور اور شرک کی تاریکیوں کے سلسلہ میں یہ ایک مختصر رسالہ ہے جس میں تو حید کا مفہوم , اسکے دلائل , اسکے انواع واقسام, اسکے ثمرات, شرک کا مفہوم, اسکے ابطال کے دلائل , مثبت ومنفى شفاعت , شرک کے اسباب ووسائل , اسکے انواع واقسام اور اسکے آثار ونقصانات بیان کئے گئے ہیں- نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں.
تاليف : سعيد بن علي بن وهف قحطاني
نظر ثانی کرنے والا : ابو المکرم عبد الجلیل
- جادو ٹونہ کے فرد اور معاشرے پر خطرناک اثراتزیر نظر کتاب میں جادو اور ٹونہ کے فرد اور معاشرے پرہونے والے خطرناک اثرات کو انتہائی علمی انداز میں بیان کیا گیا ہے نہایت ہی مفید مضمون ہے ضرور مطالعہ کریں.
تاليف : صالح بن فوزان الفوزان
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
- کلمہ گو مشرکاس کتاب میں شرک کی مذمت اور دعوت توحید کو قرآن وسنت کے محکم دلائل سے واضح کیا گیا ہے اور بالتفصیل یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ مشرکین عرب اللہ کے علاوہ انبیاء, اولیاء, شہداء, جن وملائکہ , شجروحجر وغیرہ کو مافوق الاسباب قوتوں کا مالک ومختار سمجھتے تھے اور اللہ کو ماننے کے ساتھ ان ہستیوں کو بھی پکارتے تھے.اللہ نے ان کے اس عقیدے کو شرک قراریا اور انہیں مشرک کہا.اور امت مسلمہ میں سے جوبھی ان جیسا عقیدہ رکھے گا اور ان کی پیروی کرے گا وہ کلمہ پڑھنے کے باوجود مشرک کہلائے گا اور اس کے تمام اعمال اکارت ہوجائیں گے. اسی طرح اس کتاب میں قبر پرستی اور پختہ قبور کے متعلق احادیث صحیحہ اور ائمہ محدثین, فقہ حنفی, مالکی, شافعی, حنبلی اور فقہ جعفریہ کی معتبر کتب سے بادلائل ثابت کیا گیا ہے کہ پختہ قبریں بنانے کا اسلام میں کو ئی تصور موجود نہیں. علاوہ ازیں کتاب کے آغاز میں مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی رحمہ اللہ کا ایک مضمون "مسلمان مشرک" بھی افادہ عام کے لیے ملحق کردیا گیا ہے.
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
- مشکو'ۃ المصابیحمشکو'ۃ المصابیح : زیرنظرکتاب حدیث نبوی صلى الله عليه وسلم کے مشہوراورمتداول مجموعے مشکاۃ المصابیح کا اردوترجمہ ہے جوپانچ جلدوں پرمشتمل چہ ہزارچوارنوے احادیث نبوی صلى الله عليه وسلم کا انمول ذخیرہ ہے جنہیں امام بغوی رحمہ اللہ نے حدیث کی مشہورکتابوں سے منتخب کرکےاسکا نام" مصابیح السنۃ" رکھا تھا اسکے بعد امام تبریزی نے مصابیح السنۃ کی تکمیل کرتے ہوئے اسمیں کچہ اضافہ کیا اوراسکا نام "مشکاۃ المصابیح" رکھا, اس ترجمہ میں حتى' المقدوریہ کوشش کی گئی ہے کہ نہایت سلیس اورعام فہم ہونیزمقصود پرحاوی ہواسکے ساتہ ضعیف احادیث کے متعلق آگاہ کیا گیا ہے اورضعیف احادیث کی طرف نشاندھی کرتے ہوئے اسماء رجال کے مشہورومستند کتاب کے حوالہ جات ذکرکئےٍ گئے ہیں اوراگرکسی حدیث میں کوئی ابہام یا اشکال ہے تونہایت اختصارکے ساتہ اسکی وضاحت کرتے ہوئے مشہورشروح أحادیث اوردیگرمتعلقہ کتب سے حوالہ جات بھی نقل کئے گئے ہیں اورمتون احادیث میں آنے والی آیات کی تخریج اوران کی ہرجلد کے آخرمیں علیحدہ سے فہرست تیا رکردی گئی ہے نیزمذہبی تعصب سے بالاترہوکراختلافی مسائل پربحث سے گریزکیا گیا ہے
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی












