اردو - سورہ حجر - قرآن کریم

قرآن کریم » اردو » سورہ حجر

اختر القاريء


اردو

سورہ حجر - آیات کی تعداد 99
الر ۚ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُّبِينٍ ( 1 ) حجر - الآية 1
آلرا۔ یہ خدا کی کتاب اور قرآن روشن کی آیتیں ہیں
رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ ( 2 ) حجر - الآية 2
کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے
ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ( 3 ) حجر - الآية 3
(اے محمد) ان کو اُن کے حال پر رہنے دو کہ کھالیں اور فائدے اُٹھالیں اور (طول) امل ان کو دنیا میں مشغول کئے رہے عنقریب ان کو (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا
وَمَا أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعْلُومٌ ( 4 ) حجر - الآية 4
اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی۔ مگر اس کا وقت مرقوم ومعین تھا
مَّا تَسْبِقُ مِنْ أُمَّةٍ أَجَلَهَا وَمَا يَسْتَأْخِرُونَ ( 5 ) حجر - الآية 5
کوئی جماعت اپنی مدت (وفات) سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے
وَقَالُوا يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ ( 6 ) حجر - الآية 6
اور کفار کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تُو تو دیوانہ ہے
لَّوْ مَا تَأْتِينَا بِالْمَلَائِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ( 7 ) حجر - الآية 7
اگر تو سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا
مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَا كَانُوا إِذًا مُّنظَرِينَ ( 8 ) حجر - الآية 8
(کہہ دو) ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملتی
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ( 9 ) حجر - الآية 9
بےشک یہ (کتاب) نصیحت ہمیں نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ ( 10 ) حجر - الآية 10
اور ہم نے تم سے پہلے لوگوں میں بھی پیغمبر بھیجے تھے
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ( 11 ) حجر - الآية 11
اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے
كَذَٰلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ ( 12 ) حجر - الآية 12
اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں
لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ ( 13 ) حجر - الآية 13
سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ ( 14 ) حجر - الآية 14
اوراگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ اُن پر کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں
لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ ( 15 ) حجر - الآية 15
تو بھی یہی کہیں کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے
وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ ( 16 ) حجر - الآية 16
اور ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے اُس کو سجا دیا
وَحَفِظْنَاهَا مِن كُلِّ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ ( 17 ) حجر - الآية 17
اور ہر شیطان راندہٴ درگاہ سے اُسے محفوظ کر دیا
إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُّبِينٌ ( 18 ) حجر - الآية 18
ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لپکتا ہے
وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُونٍ ( 19 ) حجر - الآية 19
اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا اور اس پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز اُگائی
وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ وَمَن لَّسْتُمْ لَهُ بِرَازِقِينَ ( 20 ) حجر - الآية 20
اور ہم ہی نے تمہارے لیے اور ان لوگوں کے لیے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے
وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ ( 21 ) حجر - الآية 21
اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اُتارتے رہتے ہیں
وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَسْقَيْنَاكُمُوهُ وَمَا أَنتُمْ لَهُ بِخَازِنِينَ ( 22 ) حجر - الآية 22
اور ہم ہی ہوائیں چلاتے ہیں (جو بادلوں کے پانی سے) بھری ہوئی ہوتی ہیں اور ہم ہی آسمان سے مینہ برساتے ہیں اور ہم ہی تم کو اس کا پانی پلاتے ہیں اور تم تو اس کا خرانہ نہیں رکھتے
وَإِنَّا لَنَحْنُ نُحْيِي وَنُمِيتُ وَنَحْنُ الْوَارِثُونَ ( 23 ) حجر - الآية 23
اور ہم ہی حیات بخشتے اور ہم ہی موت دیتے ہیں۔ اور ہم سب کے وارث (مالک) ہیں
وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ ( 24 ) حجر - الآية 24
اور جو لوگ تم میں پہلے گزر چکے ہیں ہم کو معلوم ہیں اور جو پیچھے آنے والے ہیں وہ بھی ہم کو معلوم ہیں
وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ ۚ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ ( 25 ) حجر - الآية 25
اور تمہارا پروردگار (قیامت کے دن) ان سب کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا (اور) خبردار ہے
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ ( 26 ) حجر - الآية 26
اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے
وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ السَّمُومِ ( 27 ) حجر - الآية 27
اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ ( 28 ) حجر - الآية 28
اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں
فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ ( 29 ) حجر - الآية 29
جب اس کو (صورت انسانیہ میں) درست کر لوں اور اس میں اپنی (بےبہا چیز یعنی) روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا
فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ ( 30 ) حجر - الآية 30
تو فرشتے تو سب کے سب سجدے میں گر پڑے
إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ ( 31 ) حجر - الآية 31
مگر شیطان کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا
قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ ( 32 ) حجر - الآية 32
(خدا نے فرمایا) کہ ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا
قَالَ لَمْ أَكُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ ( 33 ) حجر - الآية 33
(اس نے) کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں
قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ ( 34 ) حجر - الآية 34
(خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا۔ تو مردود ہے
وَإِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ ( 35 ) حجر - الآية 35
اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت (برسے گی)
قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ( 36 ) حجر - الآية 36
(اس نے) کہا کہ پروردگار مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے
قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ ( 37 ) حجر - الآية 37
فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے
إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ( 38 ) حجر - الآية 38
وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک
قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ( 39 ) حجر - الآية 39
(اس نے) کہا کہ پروردگار جیسا تونے مجھے رستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لیے (گناہوں) کو آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا
إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ( 40 ) حجر - الآية 40
ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں (ان پر قابو چلنا مشکل ہے)
قَالَ هَٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ ( 41 ) حجر - الآية 41
(خدا نے) فرمایا کہ مجھ تک (پہنچنے کا) یہی سیدھا رستہ ہے
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ ( 42 ) حجر - الآية 42
جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے
وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ ( 43 ) حجر - الآية 43
اور ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے
لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ لِّكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُومٌ ( 44 ) حجر - الآية 44
اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر ایک دروازے کے لیے ان میں سے جماعتیں تقسیم کردی گئی ہیں
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ( 45 ) حجر - الآية 45
جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے
ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِينَ ( 46 ) حجر - الآية 46
(ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں سلامتی (اور خاطر جمع سے) داخل ہوجاؤ
وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ ( 47 ) حجر - الآية 47
اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی ان کو ہم نکال کر (صاف کر) دیں گے (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں
لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ ( 48 ) حجر - الآية 48
نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے
نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ( 49 ) حجر - الآية 49
(اے پیغمبر) میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں
وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ ( 50 ) حجر - الآية 50
اور یہ کہ میرا عذاب بھی درد دینے والا عذاب ہے
وَنَبِّئْهُمْ عَن ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ ( 51 ) حجر - الآية 51
اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنادو
إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا قَالَ إِنَّا مِنكُمْ وَجِلُونَ ( 52 ) حجر - الآية 52
جب وہ ابراہیم کے پاس آئے تو سلام کہا۔ (انہوں نے) کہا کہ ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہے
قَالُوا لَا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ ( 53 ) حجر - الآية 53
(مہمانوں نے) کہا کہ ڈریئے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں
قَالَ أَبَشَّرْتُمُونِي عَلَىٰ أَن مَّسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ ( 54 ) حجر - الآية 54
بولے کہ جب مجھے بڑھاپے نے آ پکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے۔ اب کاہے کی خوشخبری دیتے ہو
قَالُوا بَشَّرْنَاكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُن مِّنَ الْقَانِطِينَ ( 55 ) حجر - الآية 55
(انہوں نے) کہا ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہوئیے
قَالَ وَمَن يَقْنَطُ مِن رَّحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضَّالُّونَ ( 56 ) حجر - الآية 56
(ابراہیم نے) کہا کہ خدا کی رحمت سے (میں مایوس کیوں ہونے لگا اس سے) مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے
قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ ( 57 ) حجر - الآية 57
پھر کہنے لگے کہ فرشتو! تمہیں (اور) کیا کام ہے
قَالُوا إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمٍ مُّجْرِمِينَ ( 58 ) حجر - الآية 58
(انہوں نے) کہا کہ ہم ایک گنہگار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (کہ اس کو عذاب کریں)
إِلَّا آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ ( 59 ) حجر - الآية 59
مگر لوط کے گھر والے کہ ان سب کو ہم بچالیں گے
إِلَّا امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَا ۙ إِنَّهَا لَمِنَ الْغَابِرِينَ ( 60 ) حجر - الآية 60
البتہ ان کی عورت (کہ) اس کے لیے ہم نے ٹھہرا دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گی
فَلَمَّا جَاءَ آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ ( 61 ) حجر - الآية 61
پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے
قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنكَرُونَ ( 62 ) حجر - الآية 62
تو لوط نے کہا تم تو ناآشنا سے لوگ ہو
قَالُوا بَلْ جِئْنَاكَ بِمَا كَانُوا فِيهِ يَمْتَرُونَ ( 63 ) حجر - الآية 63
وہ بولے کہ نہیں بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے
وَأَتَيْنَاكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ( 64 ) حجر - الآية 64
اور ہم آپ کے پاس یقینی بات لے کر آئے ہیں اور ہم سچ کہتے ہیں
فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ وَاتَّبِعْ أَدْبَارَهُمْ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ وَامْضُوا حَيْثُ تُؤْمَرُونَ ( 65 ) حجر - الآية 65
تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچھے چلیں اور اور آپ میں سے کوئی شخص مڑ کر نہ دیکھے۔ اور جہاں آپ کو حکم ہو وہاں چلے جایئے
وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَٰلِكَ الْأَمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَٰؤُلَاءِ مَقْطُوعٌ مُّصْبِحِينَ ( 66 ) حجر - الآية 66
اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی
وَجَاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ ( 67 ) حجر - الآية 67
اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے
قَالَ إِنَّ هَٰؤُلَاءِ ضَيْفِي فَلَا تَفْضَحُونِ ( 68 ) حجر - الآية 68
(لوط نے) کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں (کہیں ان کے بارے میں) مجھے رسوا نہ کرنا
وَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ ( 69 ) حجر - الآية 69
اور خدا سے ڈرو۔ اور میری بےآبروئی نہ کیجو
قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَالَمِينَ ( 70 ) حجر - الآية 70
وہ بولے کیا ہم نے تم کو سارے جہان (کی حمایت وطرفداری) سے منع نہیں کیا
قَالَ هَٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ ( 71 ) حجر - الآية 71
(انہوں نے) کہا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں (ان سے شادی کرلو)
لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ ( 72 ) حجر - الآية 72
(اے محمد) تمہاری جان کی قسم وہ اپنی مستی میں مدہوش (ہو رہے) تھے
فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِينَ ( 73 ) حجر - الآية 73
سو ان کو سورج نکلتے نکلتے چنگھاڑ نے آپکڑا
فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ ( 74 ) حجر - الآية 74
اور ہم نے اس شہر کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا۔ اور ان پر کھنگر کی پتھریاں برسائیں
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِينَ ( 75 ) حجر - الآية 75
بےشک اس (قصے) میں اہل فراست کے لیے نشانی ہے
وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٍ مُّقِيمٍ ( 76 ) حجر - الآية 76
اور وہ (شہر) اب تک سیدھے رستے پر (موجود) ہے
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّلْمُؤْمِنِينَ ( 77 ) حجر - الآية 77
بےشک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانی ہے
وَإِن كَانَ أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ لَظَالِمِينَ ( 78 ) حجر - الآية 78
اور بَن کے رہنے والے (یعنی قوم شعیب کے لوگ) بھی گنہگار تھے
فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍ مُّبِينٍ ( 79 ) حجر - الآية 79
تو ہم نے ان سے بھی بدلہ لیا۔ اور یہ دونوں شہر کھلے رستے پر (موجود) ہیں
وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَابُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِينَ ( 80 ) حجر - الآية 80
اور (وادی) حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی
وَآتَيْنَاهُمْ آيَاتِنَا فَكَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ ( 81 ) حجر - الآية 81
ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھرتے رہے
وَكَانُوا يَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا آمِنِينَ ( 82 ) حجر - الآية 82
اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمینان) سے رہیں گے
فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ ( 83 ) حجر - الآية 83
تو چیخ نے ان کو صبح ہوتے ہوتے آپکڑا
فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ ( 84 ) حجر - الآية 84
اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ ۗ وَإِنَّ السَّاعَةَ لَآتِيَةٌ ۖ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ ( 85 ) حجر - الآية 85
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے اس کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور قیامت تو ضرور آکر رہے گی تو تم (ان لوگوں سے) اچھی طرح سے درگزر کرو
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ ( 86 ) حجر - الآية 86
کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار (سب کچھ) پیدا کرنے والا (اور) جاننے والا ہے
وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ ( 87 ) حجر - الآية 87
اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو (نماز میں) دہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورہٴ الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے
لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ ( 88 ) حجر - الآية 88
اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا
وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُ ( 89 ) حجر - الآية 89
اور کہہ دو کہ میں تو علانیہ ڈر سنانے والا ہوں
كَمَا أَنزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ ( 90 ) حجر - الآية 90
(اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا
الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ ( 91 ) حجر - الآية 91
یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا
فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ( 92 ) حجر - الآية 92
تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے
عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ( 93 ) حجر - الآية 93
ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ ( 94 ) حجر - الآية 94
پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو
إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ( 95 ) حجر - الآية 95
ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لیے جو تم سے استہزاء کرتے ہیں کافی ہیں
الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ( 96 ) حجر - الآية 96
جو خدا کے ساتھ معبود قرار دیتے ہیں۔ سو عنقریب ان کو (ان باتوں کا انجام) معلوم ہوجائے گا
وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ ( 97 ) حجر - الآية 97
اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ ( 98 ) حجر - الآية 98
تو تم اپنے پروردگار کی تسبیح کہتے اور (اس کی) خوبیاں بیان کرتے رہو اور سجدہ کرنے والوں میں داخل رہو
وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ ( 99 ) حجر - الآية 99
اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے

کتب

  • عقیدہ طحاویہزیرنظر کتاب امام طحاوی رحمہ اللہ نے مرتب کی ہے جس میں بہت ہی مختصر انداز میں اسلامی عقائد کا احاطہ کیا گیا ہے اور اہل سنت والجماعت کے عقائد بیان کیے گئے ہیں عقیدہ کی تعلیم اوراس کے عناصر سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے اس کامطالعہ ازحدضروری ہے کتاب مذکور کی خو بی یہ ہے کہ تمام اسلامی عقائد کو مختصراً بیان کردیا گیا ہے اور باطل فرقوں کے بالمقابل اہل سنت والجماعت کے افکارونظریات کی نمائندگی کی گئی ہے

    تاليف : ابو جعفر الطحاوی

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/318806

    التحميل :عقیدہ طحاویہ

  • مشکو'ۃ المصابیحمشکو'ۃ المصابیح : زیرنظرکتاب حدیث نبوی صلى الله عليه وسلم کے مشہوراورمتداول مجموعے مشکاۃ المصابیح کا اردوترجمہ ہے جوپانچ جلدوں پرمشتمل چہ ہزارچوارنوے احادیث نبوی صلى الله عليه وسلم کا انمول ذخیرہ ہے جنہیں امام بغوی رحمہ اللہ نے حدیث کی مشہورکتابوں سے منتخب کرکےاسکا نام" مصابیح السنۃ" رکھا تھا اسکے بعد امام تبریزی نے مصابیح السنۃ کی تکمیل کرتے ہوئے اسمیں کچہ اضافہ کیا اوراسکا نام "مشکاۃ المصابیح" رکھا, اس ترجمہ میں حتى' المقدوریہ کوشش کی گئی ہے کہ نہایت سلیس اورعام فہم ہونیزمقصود پرحاوی ہواسکے ساتہ ضعیف احادیث کے متعلق آگاہ کیا گیا ہے اورضعیف احادیث کی طرف نشاندھی کرتے ہوئے اسماء رجال کے مشہورومستند کتاب کے حوالہ جات ذکرکئےٍ گئے ہیں اوراگرکسی حدیث میں کوئی ابہام یا اشکال ہے تونہایت اختصارکے ساتہ اسکی وضاحت کرتے ہوئے مشہورشروح أحادیث اوردیگرمتعلقہ کتب سے حوالہ جات بھی نقل کئے گئے ہیں اورمتون احادیث میں آنے والی آیات کی تخریج اوران کی ہرجلد کے آخرمیں علیحدہ سے فہرست تیا رکردی گئی ہے نیزمذہبی تعصب سے بالاترہوکراختلافی مسائل پربحث سے گریزکیا گیا ہے

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/172207

    التحميل :مشکو'ۃ المصابیحمشکو'ۃ المصابیح

  • مذاہب عالم ميں تصور خدا اور اسلام کے بارے میں غیر مسلموں کے بیس سوالاس عالم رنگ ویو میں لا تعداد مذاہب پائے جاتےہیں ان مذاہب میں قدر مشترک یہ ہے کہ یہ تمام کے تمام ایک عالمگیراللہ اور ایک برتر ہستی پر یقین رکھتے ہیں جو قادر مطلق اور عالم کل ہے- زیر نظر کتاب اسی موضوع پر دنیا کے مشہور ومعروف دانشور ڈاکٹر عبدالکریم ذاکر نائیک کی شاندار تصنیف ہے- کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے - پہلے حصے میں مصنف نے دنیا کےبڑے بڑے مذاہب، جن میں ہندومت، عیسائیت، یہودیت اور اسلام شامل ہیں، میں اللہ کے حوالے سے پائے جانے والے تصور کو ان کی کتابوں کی روشنی میں واضح کیا ہے – کتاب کے دوسرے حصے میں موصوف نے اسلام کے متعلق غیر مسلموں کے بہت سے اشکالات مثلا کثرت ازواج، مسلمانوں کا طریقہ ذبح،شراب کی حرمت اسلام میں کیوں ہے؟گوشت خوری کیوں جائز ہے،اور مسلمان دہشت گرد کیوں ہوتا ہے اس طرح کے تمام اشکا لات کا تسلی بخش جواب دیتے ہوئے ان موضوعات پر علمی انداز میں کافی وشافی بحث کی ہے-

    تاليف : ذاكر نايك

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/195948

    التحميل :مذاہب عالم ميں تصور خدا اور اسلام کے بارے میں غیر مسلموں کے بیس سوال

  • فضائل عشرۂ ذوالحجہ اور احکام ومسائل عید الأضحىعيد الأضحى اسلام کی دوسری عید ہے جو سنت ابراھیمی کے عظیم الشان تاریخی واقعے کی یاد دلاتى ہےجسمیں ایک طرف ابراہیم خلیل اللہ کی محبت الہی میں قربانی کے تقاضوں کا علم ہوتا ہے تودوسری جانب اسماعیل ذبیح اللہ کے والدین کی فرمانبرداری میں ایثاروقربانی کا بے مثال سبق ملتا ہے.سنت ابراہیمی کے اس تاریخ سازعمل کو حضورپاک صلى اللہ علیہ وسلم نے سنت مؤکدہ کے ذریعے اپنی امت کے لئے دائمی رضاء الہی کا ذریعہ بنایاجسکے باعث آج کروڑوں فرزندان توحید ہرسال قربانی کے ذریعے اس عزم کا اظہارکرتے ہیں کہ راہ حق میں اگرمال کی طرح جان بھی دینا پڑے تواسوۂ ابراہیمی کی پیروی میں اس سے دریغ نہ کریں گے.زیرنظرکتاب میں عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت اورعید وقربانی کے احکام ومسائل سے متعلق علمی وتحقیقی بحث کی گئی ہے . نہایت ہی مفیدکتاب ہے ضرورمطالعہ کریں.

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    اصدارات : مكتبة دار السلام

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/185772

    التحميل :فضائل عشرۂ ذوالحجہ اور احکام ومسائل عید الأضحى

  • آئينہ ایامِ تاریخیہ کتاب حضرت رسول کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی وفات سے لے کرنواسئہ رسول سیدنا حسین بن على رضی اللہ عنہ کی شہادت 61ھ تک کے اہم ترین عرصہ پر مشتمل ہے- اس کتاب میں مندرجہ ذیل اہم موضوعات پر بحث کی گئی ہے: سقیفہ بنی ساعدہ, قصہ شورى, حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراضات , شہادت عثمان رضی اللہ عنہ, خلافت على رضی اللہ عنہ, معرکہ جمل, معرکہ صفین, معرکہ نہروان, شہادت على المرتضی , خلافت حسن بن على بن ابی طالب , عام الجماعة, خلافت معاویہ بن ابی سفیان , خلافت یزید بن معاویہ , شہادت حسین بن على , صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت پر پاکدامنی, صحابہ کرام کے متعلق پھیلائی گئی بدگمانیاں اور انکے جوابات, امامت على المرتضی کی اوّلیت کے دلائل اورانکے جوابات وغیرہ- عدالت صحابہ پر لاجواب تحقیقی اور علمی کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں.

    تاليف : عثمان الخميس

    نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

    ترجمہ کرنے والا : ابو مسعود عبد الجبار سلفی

    اصدارات : www.aqeedeh.com فارسی زبان میں

    مصدر : http://www.islamhouse.com/p/303065

    التحميل :آئينہ ایامِ تاریخ